قائد حزب اختلاف یا “گلی کا غنڈہ”.
متحدہ مجلس عمل کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن بدھ کے روز نجی ٹیلی ویژن چینل اے آر وائی ون ورلڈ پر انٹرویو کے دوران میزبان ڈاکٹر شاہد مسعود پر شدید برہم ہوگئے اور تہذیب کے تمام تقاضوں کو بالائے تاک رکھتے ہوئے ایسے برسے کہ گویا انٹرویو کرنے والے کو تھپڑ رسید کر دیں گے۔
’’تم کو کس نے یہ حق دیا کہ ہماری پارٹی میں اختلافات کی بات کرو، متحدہ مجلس عمل ایک ہے۔" مجلس عمل کی قیادت اور حافظ حسین کے درمیان اختلاف سے متعلق خبروں پر ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن کا یہ رد عمل تھا، اس دوران وہ اپنی نشست سے تقریباً اٹھ ہی گئے اور ان کی انگلی (بشمول ہاتھ) کا رخ ٹیلی ویژن میزبان کی طرف تھا۔ اس سے قبل مولانا فضل الرحمٰن نے کہا: ’’آپ (میڈیا کے) لوگوں کو مرنا نہیں ہے؟ آپ ہمیشہ شک شقاق کی بات کرتے ہو۔‘‘
مجلس عمل کے رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ مختلف جماعتوں میں اختلافات کی خبریں پھیلا کر اپنا کاروبار چمکانا چاہتے ہیں۔ تاہم انٹرویو کے اختتام پر وہ جس انداز میں ڈاکٹر شاہد مسعود پر برسے وہ عام لوگوں کے لیے یقیناّ حیرت انگیز ہوگا اگرچہ صحافیوں کے لیے یہ سب نیا نہیں ہے۔ ایک جگہ جہاں مولانا فضل الرحمٰن کا یہ انٹرویو دیکھا جا رہا تھا چند صحافی جمع تھے اور ان میں سے ایک نے قائد حزب اختلاف کے گرجنے برسنے پر بے ساختہ کہا : " یہ تو گلی کا غنڈہ ہے یار!"
حکومتی اور اپوزیشن سیاستدانوں کی جانب سے صحافیوں کو دھمکانے اور ان پر برس پڑنے کی یہ نئی روایت نہیں نہ ہی پہلا واقعہ ہے ایسے واقعات پہلے بھی عام رہے ہیں البتہ ٹیلی ویژن چینل آنے سے معمولی سا فرق پڑا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کا انٹرویو اے آر وائی نے تین مرتبہ نشر کیا۔ " پہلے صحافی ڈرائے دھمکائے جانے پر کسی کو بتا بھی نہیں پاتے تھے اب کم ازکم انٹرویو نشر تو کر سکتے ہیں " مولانا فضل الرحمٰن کو بے ساختہ "گلی کا غنڈہ" کہنے والے صحافی کا کہنا تھا۔
ستمبر2005 میں سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو نے "آف دی کیمرا" کچھ ایسا ہی سلوک کسی حد تک جونئیر صحافی کے ساتھ کیا تھا جس نے ایک تقریب کے موقع پر اپوزیشن سیاستدان سے سوال کی جسارت کی تھی۔ نثار کھوڑو نے جواب دینے کے ساتھ اس صحافی کو آنکھیں بھی دکھائیں اور جب وہ خفیف ہو کر پیچھے ہٹا تو پیپلز پارٹی رہنما کے ساتھیوں کا قہقہہ دور تک سنائی دیا۔ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی ان سیاستدانوں کا مملکت کے چوتھے ستون کے ساتھ یہ رویہ ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد یہ لوگ کیا کرتے ہوں اور جو اقتدار میں ہیں وہ کیا کرتے ہیں اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
